فریضہ حج اور ہمارا طرز عمل /میری پہلی اردو تحریر


 

اسلام کی انفرادیت کا راز اس بات میں پنہاں ہے کہ اس کا فلسفۂ عبادت دیگر مذاہب کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے۔ یعنی دیگر مذاہب کے پیروکاروں کےلۓ لذت عبادت مدت عبادت کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔ لیکن دین اسلام کے لازم کردہ افعال اپنی تیاری سے لےکر تکمیل تک اور اس کے مابعد بھی ہماری زندگی اور طرز عمل میں موثر رہتے ہیں۔

ان ہی میں سے ایک عظیم عبادت و رکن اسلام فریضۃ حج بھی ہے جس کے متعلق نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا "جس نے اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لۓ حج کیا, خود کو تعلق زوجین اور گناہوں سے روکے رکھا تو وہ اس طرح لوٹے گا جیسے ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہوا بچہ"۔

غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ماں کے پیٹ سے نکلا ہوا بچہ صرف گناہوں سے ہی پاک ہوتا ہے ۔ نہیں۔ بلکہ دین فطرت پر پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ بغض,حسد, تکبر,مرعوبیت,اور رجحانات کی اندھی تقلید سے بھی پاک ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فریضۃ حج محض گناہوں سے پاک ہونے کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسے اسباب سے بھی دور رہنے کا نام ہے جو گناہوں کے لۓ راہ ہموار کرتے ہوں۔

دیکھا جاۓ تو فریضۃ حج  اپنے آپ میں ہی ایک مدرس ہے۔ وہ معلم جو ہماری عام زندگی میں بھی  ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے۔ دوران عبادت مردوعورت پر لازم کردہ لباس  اس بات پر دال ہے کہ مومن کا سب سے قیمتی لباس اس کی سادگی ہے اور اس ہی حال میں وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ اس ہی کی مثل حج میں  الگ الگ مقامات پر لزوم تسبیحات انسان کو کثیر مرتبہ اپنے مقصد تخلیق اور  اس آیت کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ" نہیں پیدا کیا ہم نے جنوں اور انسانوں کو مگر اپنی عبادت کے لۓ۔" حج جہاں ہم سے جسمانی اور مالی دونوں قربانیوں کا تقاضہ کرتا ہے وہیں ہمیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے کثیر مواقع دے کر ہمارے دلوں سے دیگر اقوام کی مرعوبیت کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔

روح پرور  مناظر حج کی طرف توجہ کی جاۓ تو اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں  یہ مسلمانوں کے لۓ موجب اتحاد ہے وہیں تمام  اسلام دشمن تحاریک اور نام نام نہاد انسانی حقوق کی دعوے دار تنظیموں کے لۓ سوالیہ نشان بھی ہے کہ وہ دنیا کی بیشتر معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم اقوام کی تائید حاصل ہونے کےباوجود بھی ایسے مناظر پیش کرنے سے قاصر ہیں جہاں نسل پرستی کا خاتمہ اور مساوات کا اظہار اس درجے پر ہوتا ہو کہ ہر نوعیت کا فرق کالمعدوم ہوجاۓ۔

ہم سب ہی ادائیگی حج کے کےمتمنی ہوتے ہیں۔ لیکن توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ  کیا ہم حج کے مقاصد اصلیہ یعنی ,ایثار , قربانی, عاجزی, اور اخلاص کے حصول کے خواہش مند ہیں۔ کیا حج کے نتیجے میں جو افعال ترک ہوجانے چاہۓ (جیسے تکبر, مرعوبیت, اور ریاکاری)ان کو ہم واقعتا ترک کرنا  چاہتے بھی ہیں۔ یا حج جیسی عظیم عبادت کو بھی ھم نے تسکین نفس اور وقتی طور پر تسلی قلب کا سامان بنا لیا ہے۔

Comments

  1. SubhanAllah!
    MashAllah!!! Bohat zabardast!!!
    Allah Paak hum sabko Batni marz se mahfooz farmae. Ameen!

    ReplyDelete
  2. SUBHAN ALLAH!!!
    Masha Allah Masha Allah!!!
    Allah Kareem apkay ilm me mazeed barkaat ata farmay Ameen!!! And I must say Rabia you have in born talent, it is with in you, this can't be learnt or unlearn but only Blessed with such beautiful writing skills!!! MashaAllah!!!

    ReplyDelete
  3. we are from Allah and we shall return to him.
    Indeed All good comes from him. جزاک اللہ خیرا

    ReplyDelete
  4. بہت عمدہ نکتہ پیش کیا آپ نے۔۔ ضروری ہے کہ ہر مسلمان اس پہ توجہ دے

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

My journey with Arabic Language.

Why we need to be careful before we mention Quranic verses and Ahadith

Trendsetting