علم اور تکبر

 



درس نظامی کے طلباء سے متعدد انواع کے کام کروائے جاتے ہیں جن میں سے ایک فن تحریر بھی ہے۔ نیز  میں نے اس مختصر  تحریر کواسی سلسلے میں لکھا ۔ نا کہ مقصد تشہیر سے۔البتہ جب میں نے اسےاپنے استاد محترم سمیت باقی لوگوں کی خدمت میں پیش کیا، تو ان میں سے بعض نے مجھے اپنی قیمتی رائے عنایت فرماتے ہوئے اسے مزید قارئین تک پہنچانے کا مشورہ دیا۔ اس میں جن نکات پر میں نے بات کی ہے یقینا ان کی سب سے زیادہ ضرورت مجھے خود ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس تحریر کو میرے اور آپ تمام کے حق میں مفید بنائے۔ اور اس کے نتیجے میں سب سے پہلے مجھے اپنے امراض باطنہ پر کام کرنے والا بنائے۔ آمین۔

ہر مسلمان کو تحصیل علم کا مکلف بنا یا گیا ہے، کیونکہ علم ہی انسانیت کی بقا ءاور اس کے درجہ کمال کو پہچنے کا ذریعہ و سبب ہے۔علم انسان کواپنے اندر موجود عیوب و نقائص پر مطلع  کرنے کے بعد اسے اصلاح نفس و معاشرےپر ابھارتا ہے ۔ اس سلسلے میں تعداد ورود احادیث واقوال علماءوائمہ بھی ہم پر مخفی نہیں۔حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے  ہیں کہ  علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ  مال کی تم حفا ظت کرتے ہو۔پس علم ہی ایک مؤمن کو شرور شیطان و نفس امارہ کے خلاف  لڑنے کی قوت فراہم کرکے بندے کو اپنے خالق سے جوڑتا ہے۔

البتہ جب انسان   راہ علم کو اختیار کرتا ہے تو شیطان اب  اپنا وار اس کی جانب  زیادہ طاقت ور اور منفرد انداز سے کرتا ہے۔وہ اب اسے عامۃالناس کی مثل نہیں بھٹکاتا، بلکہ اس کے پاس موجود نعمت علم کو اسی کے خلاف استعمال کر کے اسے تکبر و عجب و خود پسندی  جیسے امراض باطنہ کا  شکار بنا دیتا ہے۔اسے اس زعم فاسد میں مبتلا کردیتا ہے کہ اب وہ کوئی عام شخص نہیں بلکہ دوسروں کے مقابلے  میں زیادہ جاننے اورفہم رکھنے ولا ہے۔ایسا شخص فقط چند دن علمی محافل میں شرکت کرنے کی بدولت اپنے آپ کو علامہ و فہامہ جیسے القابات کا لائق ومستحق سمجھ بیٹھتا ہے اور بسا اوقات یہ خوش فہمی موصل ہلاکت ثابت ہوتی ہے۔مرض تکبر کے جنم لیتے ہی انسان  غیرارادی طور پر مقصدتعلم سے بےگانہ اور غافل ہوجاتا ہے۔فوائد علم سے مستفید ہونا تو دور، وہ دنیا میں لوگوں کی جانب سے  اظہار نا پسندیدگی اور آخرت  کی ذلت و رسوائی   کو دعوت دے رہا ہوتا ہے۔

اسی طرح، بعض اوقات، علم دین سے وابستہ لوگ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ امراض باطنہ فقط دیگر علوم و فنون کے افراد  کے ساتھ خاص ہیں۔ یہ غلط فہمی یقینا اپنے آپ سے ضرورت سے زیاد ہ حسن ظن رکھنے کا نتیجہ ہے۔  علم کے سبب پیدا ہونے والا غروروتکبر کسی خاص نوع علم ،مثلا دنیوی علم، کے ساتھ  مقید نہیں، بلکہ بالعموم تمام علوم ہی مرض تکبر کا موجب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اور بالفرض دینی و دنیوی علم فرد واحد میں جمع ہوجائیں تو یقینا اب امکانات تکبر اقوی ہونگے ۔  تاہم ایسے افراد اور تلامذہ علم دین کو دیگر فنون و علوم کے طلباء کی بنسبت زیادہ محتاط رہنے کی حاجت ہے کیونکہ وہ مراجع الناس اور خدام دین ہوتے ہیں۔ان کا ہر عمل لوگوں کے لئے مثل حجت ہوتا ہے۔ اسی لئےایک عام شخص میں پیدا ہونے والا تکبر فقط اس شخص  کے لئے مضر ہوتا ہے جبکہ ایک عالم دین   کے اندر یہ روحانی مرض پورے معاشرے کو دین اور اس سے منسلک لوگوں سے بےذاروبدظن کردیتا ہے- 

علم سے نفع اٹھانا اسی وقت ممکن ہے کہ جب انسان اپنے باطن پر ایسی ہی توجہ مرکوز رکھے جیسے کہ وہ اپنے ظاہر پر رکھتا ہے۔ دن میں متعدد مرتبہ احوال قلب پر غوروفکر کرے اور کسی بھی معاملے میں اپنے آپ کو کامل واکمل نہ سمجھے۔ دوسروں کی رائے کو عزت و احترام سے دیکھے اور بقدر ضرورت ان پر عمل کرنے میں اپنی حقارت نہ محسوس کرے۔اس معاملے میں قرآن و حدیث میں بیان کی گئیں وعیدات کو بھی پیش نظر رکھے۔ تحصیل علم ، بالخصوص علم دین، کا موقع بہت ہی کم لوگوں کا مقدر ہوتا ہے، لہذاس غیر معمولی  موقع کو تکبر جیسے قبیح مرض میں مبتلا ہو کر، عذاب قبرو جھنم کا سبب و ذریعہ بنانا، ایک بہت بڑی حماقت ہے۔


Comments

  1. بارک اللہ لک
    تحریر میں بہت خوبصورتی سے مرض اور اُس کا علاج پیش کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے باطن پہ نظر رکھنے والا بناۓ

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

My journey with Arabic Language.

Why we need to be careful before we mention Quranic verses and Ahadith

Trendsetting